عیب کار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - برائی کرنے والا۔ "عیب کاروں کے پردہ دار حیدرِ کرار شہسوارِ کارزار، ان داتا، من داتار تجھ پر سلام۔"      ( ١٩١١ء، سی پارہ دل، ٥:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عیب' کے ساتھ فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کار' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩١١ء کو "سی پارۂ دل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برائی کرنے والا۔ "عیب کاروں کے پردہ دار حیدرِ کرار شہسوارِ کارزار، ان داتا، من داتار تجھ پر سلام۔"      ( ١٩١١ء، سی پارہ دل، ٥:١ )